Current Issue
بسم الله الرحمن الرحيم
علم و تحقیق کا سفر جب اخلاص، دیانت اور عصری شعور سے جڑ جائے تو وہ محض معلومات کا اضافہ نہیں کرتا بلکہ فکری سمتوں کا تعین بھی کرتا ہے۔ الایضاح کا دسمبر 2025 کا شمارہ (مجلد 43، شمارہ 2) اسی بامعنی علمی تسلسل کی ایک تازہ کڑی ہے، جو قرآنی علوم، حدیث، فقہ، تاریخ، تہذیب اور معاصر فکری مباحث کو ایک ہمہ جہت علمی منظرنامے میں پیش کرتا ہے۔ اس شمارے میں عالمِ اسلام کی مختلف جامعات اور علمی مراکز سے وابستہ محققین کی سنجیدہ اور معیاری کاوشیں شامل ہیں، جو روایت اور جدت کے حسین امتزاج کی نمائندہ ہیں۔
قرآنی قراءات کے کلاسیکی سرمایے پر روشنی ڈالتے ہوئے جامعہ اسلامی مدینہ منورہ، مملکتِ سعودی عرب کے کلیۃ القرآن، شعبۂ قراءات سے وابستہ پروفیسر عبدالرحمن بن سعد بن عائض الجهني نے امام شهاب الدین احمد بن محمد البنا الدمیاطیؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف إتحاف فضلاء البشر بالقراءات الأربع عشرة کے مخطوطات اور مطبوعہ نسخوں کا واصفانہ مطالعہ پیش کیا ہے، جو علمِ قراءات کے تحقیقی ذوق رکھنے والوں کے لیے نہایت وقیع اضافہ ہے۔
فقہی استدلال کے مناہج پر گفتگو کرتے ہوئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر صفی اللہ وکیل نے علامہ محمد الامین شنقیطیؒ کی تفسیر أضواء البیان میں اختیار کردہ فقہی منہجِ استدلال کا عمیق تجزیہ کیا ہے، جو تفسیر بالقرآن کے اصولی فہم کو اجاگر کرتا ہے۔
عصرِ حاضر کے ایک نہایت اہم اور جدید موضوع پر قلم اٹھاتے ہوئے اردن سے تعلق رکھنے والی محققہ رندہ عبدالرؤوف علی حماد (رکن: عالمی اتحادِ علماء مسلمین) نے قرآنِ کریم اور اس کے علوم کی خدمت میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے امکانات اور اطلاقات کا جائزہ لیا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی اور دینی علوم کے باہمی ربط کی ایک نئی جہت سامنے لاتا ہے۔
قرآنی قراءات اور تفسیری معانی کے باہمی تعلق پر امام عبدالرحمن بن فیصل یونیورسٹی، دمام، سعودی عرب کی فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا سے وابستہ پروفیسر ضحی عبد الدیاب اور ایم فل اسکالر لمیس عبداللہ خلیل نے حروف کے حذف اور اس کے تفسیری اثرات کا علمی مطالعہ پیش کیا ہے، جو لسانی دقت اور قرآنی اسلوب کی باریکیوں کو واضح کرتا ہے۔
حدیث نبوی ﷺ کی تدریس کو عصری اسالیب سے جوڑتے ہوئے جامعہ زیتونہ، تیونس کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سیولائزیشن سے وابستہ پی ایچ ڈی امیدوار عبدالرحمن حاجی نے ذہنی نقشوں (Mind Maps) کے استعمال پر مبنی ایک مفید تحقیقی مطالعہ پیش کیا ہے، جو تعلیمِ حدیث کے میدان میں جدت کی ایک کامیاب مثال ہے۔
مالی فقہ کے اہم اصول پر گفتگو کرتے ہوئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ شریعہ سے وابستہ پی ایچ ڈی امیدوار قریب الرحمن اور پروفیسر عطاء اللہ فیضی نے امام ابو عبیدؒ کے ہاں مصلحت کے اصول کا تقابلی جائزہ افغان مالی قوانین کے تناظر میں پیش کیا ہے، جو اسلامی مالیات اور معاصر قانونی ڈھانچوں کے باہمی مکالمے کو فروغ دیتا ہے۔
اسلامی سیاسی تاریخ کے ایک نازک اور اہم باب پر مراکش کی جامعہ حسن ثانی، کاسابلانکا سے وابستہ محقق انس بوسلام نے خلیفۂ ثالث حضرت عثمان بن عفانؓ کی پالیسیوں اور ان کے سیاسی اثرات کا تجزیہ پیش کیا ہے، جو تاریخِ خلافت کے فہم میں توازن اور وسعت پیدا کرتا ہے۔
قدیم تہذیبوں اور اسلامی معاشرے کے فکری و ثقافتی روابط پر روشنی ڈالتے ہوئے بغداد، عراق کے کالج آف اکنامک سائنسز سے وابستہ پروفیسر محمد جاسم شعبان العانی نے عراق کی قدیم تہذیبوں کے مذہبی مظاہر اور ان کے عرب و اسلامی معاشرے میں تسلسل کا تحقیقی مطالعہ پیش کیا ہے، جو تاریخ اور تہذیب کے بین المتنی رشتوں کو واضح کرتا ہے۔
لسانی و ترجماتی مطالعات کے میدان میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کی فیکلٹی آف عربی سے وابستہ شیرعلی خان اور نرگس نذیر نے ترجمے کی جانچ کے لیے مختلف معیارات تجویز کیے ہیں، جو ترجمہ نگاری کے جدید علمی مباحث میں ایک اہم اضافہ ہے۔
جب کہ اسلامی فرقہ جاتی تاریخ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ترکی کی مرمرہ یونیورسٹی، استنبول کے فیکلٹی آف تھیالوجی سے وابستہ سید نعیم بادشاہ، محمد امیی اور نجم الدین اربکان یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخِ فرقِ اسلامی کے سربراہ دوگان کپلان نے پندرھویں صدی میں مکران اور ذکری فرقے کے ظہور اور ارتقائی پس منظر کا مفصل تاریخی مطالعہ پیش کیا ہے، جو برصغیر اور خطۂ مکران کی مذہبی تاریخ کو سمجھنے میں نہایت مددگار ہے۔
یہ تمام مقالات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ الایضاح عصرِ حاضر میں ایک ایسا معتبر علمی پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں کلاسیکی اسلامی علوم اور جدید فکری مباحث ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔ ہم تمام محققین کی علمی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس مجلہ کو علم، بصیرت اور ہدایت کا ذریعہ بنائے رکھے۔
والسلام
Articles
Al-Idah is an International peer reviewed, Open Access,HEC approved “Y” category, bi-annual research journal. Its domain is Islamic Studies& theology and we encourage submissions related to the contemporary challenges by the Muslim Ummah. Our focus lies in the spreading of true progressive moderate and adoptive picture of Islam that embraces diversity and difference. The essence of Islam lies in peace and tolerance.
More specifically, Al- Idah takes regular submissions from academic professionals and researchers belongs toUloom e Quran,Hadith and Rules of Hadith, Seerat e Nabvi, Jurisprudence, Islamic History, Comparative Jurisprudence, Comparative Study of Religion,, Anti Extremism, Social Sciences and related disciplines.
With this aim the articles may be addressed to any related issues – social, economic, political, technological, theological- falling in the domain of theology and Islam. Our mission is to create awareness and spread the authentic teachings of Islam. Today Al-Idah is the luminary in the research world due to the acumen of its valued contributors and their high- quality research parameters that make it what it is.
This work is licensed under a